वफ़ा ही जहाँ की अलामत नहीं है
मुझे ज़ख्म खाने की आदत नहीं है
न ऐसे कभी तुम सरे राह रुकते
न हम जान पाते मुहब्बत नहीं है
तुम्हीने जता के रफ़ाक़त क़ता की
हमारी तरफ़ से अदावत नहीं हैं
मेरी चाह को तुम सदाक़त से परखो
“मुझे तुमसे कोई शिकायत नहीं है”
लुटा कर दहर भी नहीं पा सका जो
मुझे उस हदफ़ की नदामत नहीं है
चलें जो सफ़र में अकेले तश्नान
कहीं इस अमल सी अमानत नहीं है
وفا ہی جہاں کی علامت نہیں ہے
مجھے زخم کھانے کی عادت نہیں ہے
ن ایسے کبھی تم سرِ راہ رکتے
ن ہم جان پاتے محبت نہیں ہے
تمہی نے جتا کے رفاقت قطع کی
ہماری طرف سے عداوت نہیں ہے
میری چاہ کو تم صداقت سے پرکھو
"مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے"
لٹا کر دہر بھی نہیں پا سکا جو
مجھے اُس ہدف کی ندامت نہیں ہے
چلیں جو سفر میں اکیلے تشنان
کہیں اس عمل سی امانت نہیں ہے